Sunday, 11 October 2020

میں کھجوروں بھرے صحراؤں میں دیکھا گیا ہوں

 میں کھجوروں بھرے صحراؤں میں دیکھا گیا ہوں

تخت کے بعد ترے پاؤں میں دیکھا گیا ہوں

پھر مجھے خود بھی خبر ہو نہ سکی میں ہوں کہاں

آخری بار ترے گاؤں میں دیکھا گیا ہوں

لمحہ بھر کو مرے سر پر کوئی بادل آیا

کہنے والوں نے کہا چھاؤں میں دیکھا گیا ہوں

دفن ہوتی ہوئی جھیلوں میں ٹھکانے ہیں مرے

خشک ہوتے ہوئے دریاؤں میں دیکھا گیا ہوں

وصل کے تین سو تیرہ میں کہیں ہوں موجود

ہجر کے معرکہ آراؤں میں دیکھا گیا ہوں

مسجدوں اور مزاروں میں مرے چرچے ہیں

مندروں اور کلیساؤں میں دیکھا گیا ہوں


ندیم بھابھہ

No comments:

Post a Comment