Sunday, 11 October 2020

وہ کال اب تک کٹی نہیں ہے

 وہ کال اب تک کٹی نہیں ہے


کئی دنوں سے

مجھے وہ میسج میں لکھ رہی تھی

جنابِ عالی

حضورِ والا

بس اِک منٹ مجھ سے بات کر لیں

میں اِک منٹ سے اگر تجاوز کروں

تو بے شک نہ کال سننا

میں زیرِ لب مسکرا کے لکھتا

بہت بزی ہوں

ابھی نئی نظم ہو رہی ہے

وہ اگلے میسج میں پھر یہ لکھتی

سسکتی روتی بلکتی نظموں کے عمدہ شاعر

تم اپنی نظمیں تراشو لیکن

کبھی تو میری طرف بھی دیکھو

کبھی تو مجھ سے بھی بات کر لو

بس اِک منٹ میری بات سن لو

میں ہنس کے لکھتا

فضول لڑکی

بہت بزی ہوں

بس اِک منٹ ہی تو ہے نہیں ناں

وہ کئی دنوں تک خموش رہتی

پھر ایک دن میں نے اس کی حالت پہ رحم کھا کر

جواب لکھا

بس اِک منٹ ہے

اور اِک منٹ سے زیادہ بالکل نہیں سنوں گا

تو اس نے 'او کے' لکھا اور اِک دم سے کال کر دی

میں کال پِک کر کے چپ کھڑا تھا

وہ گہرا لمبا سا سانس لے کر

اداس لہجے میں بولی سر جی

میں جانتی ہوں کہ اِک منٹ ہے

اور اِک منٹ میں

میں اپنے اندر کی ساری باتیں کسی بھی صورت نہ کہہ سکوں گی

سلگتی ہجرت زدہ رُتوں کو اداس نظموں میں لکھنے والے

عظیم شاعر

خدا کی دھرتی پہ رہنے والے

اداس لوگوں کا دکھ بھی لکھنا

کبھی محبت میں جلتے لوگوں کا دکھ سمجھنا

کبھی کسی نظم میں بتانا جنہیں تمہاری رفاقتیں ہی کبھی میسر نہیں ہوئی ہیں

جنہیں تمہاری محبتیں ہی کھبی میسر نہیں ہوئی ہیں

کبھی جو محرومیوں کے موسم بہت ستائیں، تو کیا کریں وہ؟

کبھی جو تنہائیوں کی شامیں بہت رلائیں، تو کیا کریں وہ؟

ابھی تو آدھا منٹ پڑا تھا

مگر وہ لائن سے ہٹ چکی تھی

وہ اِک منٹ کی جو کال تھی ناں

وہ تیس سیکنڈ میں کٹ چکی تھی

میں کتنے برسوں سے اگلا آدھا منٹ گزرنے کا منتظر ہوں

وہ نرم لیکن اداس لہجے میں بات کرتی

اداس لڑکی مِری سماعت کے

ادھ کھلے در سے یونہی اب تک لگی ہوئی ہے

ہٹی نہیں ہے

بہت سے سالوں سے چل رہی ہے

وہ کال اب تک کٹی نہیں ہے


میثم علی آغا

No comments:

Post a Comment