Sunday, 11 October 2020

وہی قصہ پرانا ہے

 وہی قصہ پرانا ہے

تو کیا لکھنا لکھانا ہے

مِری کٹیا ٹپکتی ہے

تِرا موسم سہانا ہے

کرم کر آسماں والے

کہاں تک آزمانا ہے

میں وہ کشتی ہوں کاغذ کی

جسے اب ڈوب جانا ہے

اتر جائے گا جب پانی

مجھے گھر یاد آنا ہے

اے بارش بے وفا ہو جا

کہ اب مشکل نبھانا ہے


اتباف ابرک

No comments:

Post a Comment