Saturday, 10 October 2020

مطلوب تیرا ساتھ ہے بس ساتھ چائے کے

 مطلوب تیرا ساتھ ہے بس ساتھ چائے کے

آتے ہیں اب خیال بھی دن رات چائے کے

شہزادی کو ہے عشق جو اس درجہ چائے سے

اک دن خرید لوں گا میں باغات چائے کے

لکھنے لگا ہوں نظم میں چائے پہ فی البدیہہ

کرنے چلا ہوں پیش کمالات چائے کے

سگرٹ جو چھوڑ دی تو نئی لت سی پڑ گئی

اب شاعری ہے، کپ یہی چھ سات چائے کے

ایسا نہ ہو کہ سر پہ یہ نشہ سوار ہو

ترتیب دے دئیے ہیں سو اوقات چائے کے

گھنٹے کے بعد ہو گی جو اتنی طلب زبیر

نقصان ہی کریں گے یہ حالات چائے کے


زبیر قیصر

No comments:

Post a Comment