مطلوب تیرا ساتھ ہے بس ساتھ چائے کے
آتے ہیں اب خیال بھی دن رات چائے کے
شہزادی کو ہے عشق جو اس درجہ چائے سے
اک دن خرید لوں گا میں باغات چائے کے
لکھنے لگا ہوں نظم میں چائے پہ فی البدیہہ
کرنے چلا ہوں پیش کمالات چائے کے
سگرٹ جو چھوڑ دی تو نئی لت سی پڑ گئی
اب شاعری ہے، کپ یہی چھ سات چائے کے
ایسا نہ ہو کہ سر پہ یہ نشہ سوار ہو
ترتیب دے دئیے ہیں سو اوقات چائے کے
گھنٹے کے بعد ہو گی جو اتنی طلب زبیر
نقصان ہی کریں گے یہ حالات چائے کے
زبیر قیصر
No comments:
Post a Comment