Saturday, 10 October 2020

اک ہنر دیدہ خوش آب میں رکھا ہم نے

 اک ہنر دیدۂ خوش آب میں رکھا ہم نے

آنسوؤں کو حدِ آداب میں رکھا ہم نے

پھر لہو میں ہے کوئی ذائقۂ بت شکنی

اتنے دن تک تجھے محراب میں رکھا ہم نے

تڑتڑانے لگا بپھرے ہوئے تاروں کا جلوس

پاؤں کیا خیمۂ مہتاب میں رکھا ہم نے

یار سمجھے کہ وہی بے سر و سامانی ہے

اک تِرا دھیان ہی اسباب میں رکھا ہم نے

اس کی باتوں نے بھی بیلیں سی بنائیں سرِ دل

سو اسے بھی صفِ احباب میں رکھا ہم نے


اختر عثمان​

No comments:

Post a Comment