Tuesday, 13 October 2020

کھو دینے کا دل بھرنے کا تھک جانے کا خوف

 کھو دینے کا دل بھرنے کا تھک جانے کا خوف

ایک تِرے ہونے سے چکھا کیسا کیسا خوف

ہم دونوں کے سامنے بہتا وقت آئینہ تھا

مجھ کو اس نے خواب دکھائے تجھے دکھایا خوف

تم تھے لیکن دو حصوں میں بٹے ہوئے تھے تم

آنکھ کھلی تو بستر کی ہر سلوٹ میں تھا خوف

اس رستے پر مجھ سے پہلے کوئی نہیں آیا

ایک انوکھی سرشاری ہے، اک انجانا خوف

اسی لیے میں سنبھل سنبھل کر قدم اٹھاتی ہوں

اتنی بلندی سے رہتا ہے گر جانے کا خوف

ان لوگوں کو کیا لگتا ہے ڈر جاؤں گی میں؟

یہ خود مجھ سے ڈرے ہوئے ہیں ان سے کیسا خوف

وقت کی آندھی لے اڑتی ہے کیسے کیسے لوگ

سوچ کے دل کو خوف آتا ہے اچھا خاصا خوف

اب کھڑکی پر جمی ہوئی ہر آنکھ سے جھانکتا ہے

اس بارش میں آخری پتہ جھڑ جانے کا خوف


فریحہ نقوی

No comments:

Post a Comment