Saturday, 19 December 2020

ٹوٹا طلسم وقت تو کیا دیکھتا ہوں میں

 ٹوٹا طلسم وقت تو کیا دیکھتا ہوں میں

اب تک اسی جگہ پہ اکیلا کھڑا ہوں میں

یہ کشمکش الگ ہے کہ کس کشمکش میں ہوں

آتا نہیں سمجھ میں بہت سوچتا ہوں میں

میں اہل تو نہیں ہوں کہ دیکھے کوئی مگر

دنیا مجھے بھی دیکھ ترا آئنا ہوں میں

اکثر غرور فکر جب اترا دماغ سے

میں دنگ رہ گیا کہ یہ کیا لکھ گیا ہوں میں

میرا کلام وحی نہیں ہے تو پھر مجھے

یہ زعم کیوں نہ ہو کہ خود اپنا خدا ہوں میں

مجھ سے نہیں اسے مرے فردا سے ہے امید

منزل سے کوئی اور فقط راستہ ہوں میں

کیا فائدہ مجھے جو پلٹ کر جواب دوں

اپنے لئے کہاں ہوں برا یا بھلا ہوں میں

غافل اب اور کیا ہوں کسی سے کہ عمر بھر

آوارگی کی گود میں سوتا رہا ہوں میں

کیا یہ جگہ ہے جس کی تمنا میں آج تک

دن رات شہر شہر بھٹکتا پھرا ہوں میں

مشعل بدست گھومتے گزری ہے ایک عمر

اب کس کے انتظار میں ٹھہرا ہوا ہوں میں


انور شعور

No comments:

Post a Comment