Sunday, 6 December 2020

نام اس پر تمہارا لکھا رہ گیا

 نام اس پر تمہارا لکھا رہ گیا

تختۂ دل💗 تبھی تیرتا رہ گیا

تیرے گھر سادہ پانی پیا تھا کبھی

میرے ہونٹوں پہ وہ ذائقہ رہ گیا

صبح دم آئینے پر نظر پڑ گئی

آئینہ آنکھ کو دیکھتا رہ گیا

راستہ اولیں ہم سفر تھا میرا

”آخری ہمسفر راستہ رہ گیا“

سرخ سگنل پہ مجھ کو وہ آئی نظر

ہوتے ہوتے کوئی حادثہ رہ گیا

اس قدر ایک دوجے کے پاس آ گئے

درمیاں دو بدن کے خدا رہ گیا

بھول بیٹھا ہوں میں بات اپنی مگر

یاد مجھ کو بس اک قہقہہ رہ گیا

میں حصارِ محبت سے نکلا تو ہوں

پر جو اندر میرے دائرہ رہ گیا

مجھ پہ الزام ثابت ہوا تو یہی

پیار ہوتے ہوئے پارسا رہ گیا

وہ زمیں زاد پائی زمیندار نے

نارسا تھا قمر، نارسا رہ گیا


قمر آسی

No comments:

Post a Comment