جب کبھی بھی ملنا ہو
مجھ سے ان جزیروں پر
خواب کے دریچوں میں
اجنبی زمینوں پر
یاد کے تسلسل کو
جب قیام دینا ہو
دل کی بات کہنی ہو
یا پیام دینا ہو
پچھمی ہواؤں کو
سرمئ گھٹاؤں کو
خامشی سے آ کے آپ
سارے راز کہہ دینا
جب کبھی بھی ملنا ہو
جب کبھی بھی ملنا ہو
شاہین کاظمی
No comments:
Post a Comment