Sunday, 13 December 2020

جب کبھی بھی ملنا ہو

 جب کبھی بھی ملنا ہو

مجھ سے ان جزیروں پر

خواب کے دریچوں میں

اجنبی زمینوں پر

یاد کے تسلسل کو

جب قیام دینا ہو

دل کی بات کہنی ہو

یا پیام دینا ہو

پچھمی ہواؤں کو

سرمئ گھٹاؤں کو

خامشی سے آ کے آپ

سارے راز کہہ دینا

جب کبھی بھی ملنا ہو

جب کبھی بھی ملنا ہو


شاہین کاظمی

No comments:

Post a Comment