Friday, 4 December 2020

سماج اک ہوس زدہ جسم ہے

 کھول دو


سماج اک ہوس زدہ جسم ہے

اس کی ٹانگوں کے درمیاں

جھولتے پنڈولم کا گندا پانی

ہر گلی اور ہر قریہ میں بکھر گیا ہے

پھولوں سے کانٹے چمٹ کر

نازک پتیاں چھید ڈالتے ہیں


کانچ کے ٹوٹے کھلونے

ہر طرف بکھرے پکڑے ہیں

پاپ کی نجاست سے گٹر ابل رہا ہے

خون نالیوں میں بہہ رہا ہے

مائیں اپنے بال کھولے

بَین ڈالتی ہیں

ایسے بَین جنہیں سن کر

کلیجہ پھٹنے لگتا ہے

آنسوؤں کے سمندر بہتے رہتے ہیں

اور کوئی سُونامی نہیں آتی

رودالیوں کے بَین کوئی نہیں سنتا

ٹھہرے پانی میں طوفاں نہیں آتا

گلی سڑی لاش باس مارتی ہے

اتنا تعفن ہے

کہ سانس لینا مشکل ہے

اور تم طاقت کے نشے میں چُور

اپنے آپ کو پاک سمجھتے ہو

کمزور کی دنیا چھین کر

جنت کے خواب دیکھتے ہو

وہ چار سالہ بچی

اب کبھی بھی سو نہ پائے گی

ہر رات

خوں بھری شلوار دیکھے گی

آدمیت کی

اتری ہوئی شلوار دیکھے گی

خون میں لتھڑی ہوئی

انسانیت کی لاش دیکھے گی

اور چیخے گی

آسماں اپنی ہی جنت میں

ہمیشہ کی طرح

آسودگی کی نیند سوتا رہے گا

میں تو رودالی ہوں

میں یونہی روتی رہوں گی

تم اتنا تو کر ہی سکتے ہو

کہ

اس ابلتے ہوئے گٹر کا ڈھکن کھول دو


غزالہ محسن رضوی

No comments:

Post a Comment