حیات عکسِ اذیت بنی ہے میرے لیے
ہر آئینے میں اداسی پڑی ہے میرے لیے
کہیں تلاش کی عجلت بدن کرید رہی
کہیں پہ سایہ بنا اجنبی ہے میرے لیے
چراغ بجھنے سے پہلے دھواں بکھرنے تک
میں کیسے مان لوں شب جاگتی ہے میرے لیے
بچھڑنے والے ترے بعد کیا خبر تجھ کو
ہر ایک سانس گھٹن اور کمی ہے میرے لیے
اذیتوں کی رڑک، خامشی، اداسی، کسک
یہ کیسی وقت نے وحشت جنی ہے میرے لیے
کبھی کبھار یہ لگتا ہے چھین لے گا کوئی
جو تجھ خیال کی صورت خوشی ہے میرے لیے
سب آستین میں خنجر چھپا کے بیٹھے لوگ
ہوائے شہر یہ کیسی چلی ہے میرے لیے
کوئی تو اس کو بتائے کہ تیرے بعد یہاں
کسی بھی شے میں کہاں دلکشی ہے میرے لیے
سہولتوں کی ندامت کے بھیس میں ارشاد
غبار، گرد، اذیت، نمی ہے میرے لیے
ارشاد نیازی
No comments:
Post a Comment