Monday, 7 December 2020

بڑے اچھے بڑے سیدھے کہیں کے

 بڑے اچھے بڑے سیدھے کہیں کے

ذرا دھبے تو دیکھو آستیں کے

چلو پابند ہی رہنا نہیں کے

مگر یہ بل بھی جائیں گے جبیں کے

مرے دامن میں موتی بھر دیے ہیں

سلیقے دیکھیے چشمِ حزیں کے

یہ نازِ دلربائی اللہ، اللہ

زباں پر ہاں مگر تیور نہیں کے

میں پھر افسانۂ غم چھیڑتا ہوں

ذرا تم پھر کہو جھوٹے کہیں کے

خدا ناکردہ کچھ مختار ہوتے

اگر مجبور باشندے زمیں کے

جنہیں محشر ہم اپنا جانتے تھے

وہ آخر بن گئے سانپ آستیں کے


محشر عنایتی

No comments:

Post a Comment