میں ہوں خود ہمدرد اپنا، دوسرا کوئی نہیں
صاف کہہ دوں گا زمانے سے مرا کوئی نہیں
میں بہت اچھا ہوں یہ تو مسلہ ہے آپ کا
میں برا بن جاؤں تو پھر مسئلہ کوئی نہیں
مفلسی نے بد دعا دی جانے کس مغرور کو
تُو وہاں جائے جہاں اب تک گیا کوئی نہیں
لاڈلا بہتر نہیں، بہتر سے بھی بہتر بنے
باپ سے بڑھ کر جہاں میں حوصلہ کوئی نہیں
سب کے سب مصروف ہو جاتے ہیں اپنے آپ میں
پھر سوائے ماں کے آنسو پونچھتا کوئی نہیں
سارے بد کردار دیکھو شہر میں مشہور ہیں
نیک لوگوں کو یہاں پہچانتا کوئی نہیں
ایسے کتنے لوگ ہیں جو دل میں رکھتے ہیں غبار
بات ایسی کرتے ہیں جیسے گِلا کوئی نہیں
ہر دیے جلنے لگے صادق بس اپنے واسطے
دوسروں کو دینے کی خاطر دیا کوئی نہیں
صادق علی
No comments:
Post a Comment