Wednesday, 16 December 2020

دل کی ضد نے ہی سکھایا ہے قلندر ہونا

 دل کی ضد نے ہی سکھایا ہے قلندر ہونا

ورنہ دشوار تھا قطرے کا سمندر ہونا

رونا چاہا بھی کسی غم پہ تو آنسو نہ گرے

تھا تعجب کا سبب آنکھ کا بنجر ہونا

اے غمِ عشق میری آنکھ میں آنسو نہ تلاش

ہر کسی سیپ میں لازم نہیں گوہر ہونا

پارسائی پہ تیری داغ ضرور آئے گا

اتنا آسان نہیں اس قوم کا رہبر ہونا

اس نے تدبیر مٹانے کی بہت کی زخمی

میری تقریر میں لکھا تھا سکندر ہونا


دلشاد زخمی

No comments:

Post a Comment