دل کی ضد نے ہی سکھایا ہے قلندر ہونا
ورنہ دشوار تھا قطرے کا سمندر ہونا
رونا چاہا بھی کسی غم پہ تو آنسو نہ گرے
تھا تعجب کا سبب آنکھ کا بنجر ہونا
اے غمِ عشق میری آنکھ میں آنسو نہ تلاش
ہر کسی سیپ میں لازم نہیں گوہر ہونا
پارسائی پہ تیری داغ ضرور آئے گا
اتنا آسان نہیں اس قوم کا رہبر ہونا
اس نے تدبیر مٹانے کی بہت کی زخمی
میری تقریر میں لکھا تھا سکندر ہونا
دلشاد زخمی
No comments:
Post a Comment