جس آئینے میں بھی جھانکا نظر اسی سے ملی
مجھے تو اپنی بھی یارو! خبر اسی سے ملی
بدل بدل کے چلا سمت و رہگزر بھی مگر
وہ اک مقام کہ ہر رہگزر اسی سے ملی
ہم ایسے کوئی ہنر مند بھی نہ تھے پھر بھی
وہ قدرداں تھا کہ دادِ ہنر اسی سے ملی
قدم قدم پہ تھے رستے میں مَہوشوں کے ہجوم
ملی کسی سے تو جا کر نظر اسی سے ملی
تمام عمر گریزاں رہا تھا جس سے میں
قدم لحد میں جو رکھے کمر اسی سے ملی
عمر انصاری
عمر لکھنوی
No comments:
Post a Comment