مطلب کے لیے ہاتھ ملانے کا شکریہ
وقتی ہی سہی، ساتھ نبھانے کا شکریہ
نسبت انہیں بھی لالہ و سرو و چمن سے تھی
ہم کو وہ سبز باغ دکھانے کا شکریہ
غیروں کی طرح صاف نہ کہتے تو بات تھی
اپنوں کی طرح ہاتھ دکھانے کا شکریہ
کیا کیا توقعات تھیں تم سے، مگر، مگر
ایک اِک کو نقشِ خاک بنانے کا شکریہ
کیسی کٹے گی بعد میں، یہ تو پتا نہیں
جتنی کٹی، دھوکے سے کٹانے کا شکریہ
یہ ذات میری خاک کی پہلے بھی راکھ تھی
اس راکھ کو پھر راکھ بنانے کا شکریہ
دِل کہہ رہا ہے آپ سے، اے میرے مہرباں
دھوکے سے روشناس کرانے کا شکریہ
میں تو سمجھ رہا تھا بہت خاص ہوں مگر
میں کیا ہوں، مجھ کو یاد دلانے کا شکریہ
تم نے تو اپنا روپ دکھایا علی، مگر
مجھ کو مری اوقات دکھانے کا شکریہ
علی سرمد
No comments:
Post a Comment