ایک نیند کی دوری سے
کبوتر بھی نہیں آئے ہیں ملنے
درختوں نے بھی چپ سادھی ہوئی ہے
مجھے جاگے ہوئے راوی سے مطلب؟
کہانی تو ابھی سوئی ہوئی ہے
خدا موجود ہے
لیکن یہ باتیں
خدا سے کرنے والی تو نہیں نا
اب اس سے یہ کہوں؟ میں نے نئی نظم
تمہاری مسکراہٹ سے بُنی ہے
اسے بولوں
کہ آؤ فلم دیکھیں
اسے پوچھوں
کہ منٹو کو پڑھا ہے؟
میں اس سے کچھ بھی کہہ سکتا ہوں، وہ تو
خدا ہے
اور بہت پیارا خدا ہے
مگر پھر بھی مِری جاناں یہ باتِیں
خدا سے کرنے والی تو نہیں نا
یہ سب باتیں
تو میں تم سے کہوں گا
یہ تم
اندلس کی تیکھی دھوپ جیسی
کہیں تحلیل مجھ میں ہو گئی ہو
یہ تم جو رنگ ہو میرے لہو کا
جو کافی پی کے پھر سے سو گئی ہو
علی زریون
No comments:
Post a Comment