Tuesday, 5 January 2021

ہر ایک جھوٹی کہانی کو آگ لگ جائے

 ہر ایک جھوٹی کہانی کو آگ لگ جائے

تمہاری آنکھ کے پانی کو آگ لگ جائے

نگر جو دیکھے اسے راہ میں کھڑے ہوئے تو

ہر اِک سڑک کی روانی کو آگ لگ جائے

تم ایک لفظ نہ بولے کسی کے حق میں کبھی

تمہاری شیریں بیانی کو آگ لگ جائے

تمہارے گال کی سرخی دکھائی جائے تو

ہر ایک لال نشانی کو آگ لگ جائے

جوانی جس کی بھی خالی ہے عشق سے یزدان

بلا سے اس کی جوانی کو آگ لگ جائے


یزدان نقوی

No comments:

Post a Comment