یہ جان کر تجھے کوئی خوشی نہیں ہو گی
کہ تیرے بعد بھی مجھ میں کمی نہیں ہو گی
یہ سارا جھگڑا تِرا ہے، جو تُو نہیں ہو گا
یہاں کسی کی بھی پھر دشمنی نہیں ہو گی
میں ایک دن کوئی تصویر بھی بناؤں گا
یہ اور بات کہ وہ آپ کی نہیں ہو گی
میں اس لیے تِری آنکھوں کو ساتھ رکھتا ہوں
میں جانتا ہوں وہاں روشنی نہیں ہو گی
وہ جس کی آنکھ میں اب تک مشال زندہ ہے
وہ ماں تو ٹی وی بھی اب دیکھتی نہیں ہو گی
یہاں سیاست و مذہب پہ جنگ ہو گی فقط
مِری زمین پہ اب شاعری نہیں ہو گی
میثم عباس
No comments:
Post a Comment