Tuesday, 9 March 2021

عکس جل جائیں گے آئینے بکھر جائیں گے

 عکس جل جائیں گے آئینے بکھر جائیں گے 

خواب ان جاگتی آنکھوں میں ہی مر جائیں گے 

ہم کہ دلدادہ کہاں رونق بازار کے ہیں 

بے نیازانہ ہی دنیا سے گزر جائیں گے

جن کو دستار کی خواہش ہے انہیں کیا معلوم 

معرکہ اب کے وہ ٹھہرا ہے کہ سر جائیں گے

کوئی منزل نہیں، رستے ہیں فقط چاروں طرف

جو نکل آئے ہیں گھر سے، وہ کدھر جائیں گے

دیکھ آ کر کہ تِرے ہجر میں بھی زندہ ہیں

تجھ سے بچھڑے تھے تو لگتا تھا کہ مر جائیں گے

ہم کہ شرمندۂ اسباب نہیں ہونے کے

حکم جب ہو گا تو بے رخت سفر جائیں گے

ہم سے دریا جو گریزاں ہے تو ہم بھی اک دن 

کسی تپتے ہوئے صحرا میں اتر جائیں گے

ہم کو دریا سے نہ موجوں سے نہ کشتی سے غرض 

اب کے اس پار ہمیں لے کے بھنور جائیں گے


اسلم محمود

No comments:

Post a Comment