یقیں سے عزم سے وہم و گماں بدل ڈالو
پھر اپنے حسنِ عمل سے جہاں بدل ڈالو
دکھا کے بزم کو حسن و عمل کے نظارے
مذاقِ واعظِ رنگیں بیاں بدل ڈالو
گرا دئیے ہیں درختوں نے اپنے برگِ کہن
بہار آئی ہے اب آشیاں بدل ڈالو
خدا نے دی ہیں عمل کو وہ طاقتیں شرقی
کہ گام گام سے کون و مکاں بدل ڈالو
شرقی امروہوی
No comments:
Post a Comment