Thursday, 17 June 2021

اپنا کردار کہانی میں نبھاتے ہوئے میں

 اپنا کردار کہانی میں نبھاتے ہوئے میں

جانے کب چُوک گئی درد چھپاتے ہوئے میں

ڈھل گئی رات لیے آس تِرے آنے کی

بُجھ گئی خود بھی دِیا آج بُجھاتے ہوئے میں

اس کو رکھا تو مِری آنکھ میں پچھتاوے تھے

کتنی شاداں تھی تِرا فون اُٹھاتے ہوئے میں

تجھ سے ملتے ہوئے دن گزرے کہ صدیاں گزریں

سوچ میں پڑ گئی تخمینہ لگاتے ہوئے میں

مجھ پہ تھیں سارے زمانے کی نگاہیں لیکن

دیکھتی تجھ کو رہی شعر سناتے ہوئے میں

تُو نے اچھا ہی کیا زندگی! منہ پھیر لیا

تھک گئی تھی تِرا احسان اُٹھاتے ہوئے مَیں

صائمہ اشک نہ دے دیں مِری پلکوں کو کوئی

سہمی سہمی تھی نئے خواب جگاتے ہوئے میں


صائمہ کامران

No comments:

Post a Comment