Wednesday, 9 June 2021

عشق کلفت ہے نہ دریائے سکوں ہے یوں ہے

 عشق کلفت ہے نہ دریائے سکوں ہے یوں ہے

ہجر وحشت نہ سکوں ہے، نہ جنوں ہے یوں ہے

آنکھ میں آ کے لہو اب تو ٹھہر جاتا ہے

ایک قطرہ ہے دروں ہے نہ بروں ہے یوں ہے

گر ضروری ہے محبت میں تڑپنا دل کا

کھینچنا آہ کا بھی کارِ سکوں ہے یوں ہے

لفظ جی اُٹھتے ہیں قرطاس پہ آتے آتے

ہاتھ میرے بھی کوئی کُن فیکوں ہے یوں ہے

خال و خد حُسن کے تجھ سے نہ بیاں ہونے کے

صرف لفاظی ہے کہتا ہے کہ یوں ہے یوں ہے

ہم اسد دل میں بسا رکھتے ہیں دنیا ساری

ورنہ کہنے کو یہ بس قطرۂ خوں ہے یوں ہے


اسد قریشی

No comments:

Post a Comment