زندگانی کا دُکھ سمجھتے ہو
رائیگانی کا دکھ سمجھتے ہو
جس میں راجہ نہیں ہے رانی کا
اس کہانی کا دکھ سمجھتے ہو
لاکھ چاہیں پہ مل نہیں سکتے
آگ پانی کا دکھ سمجھتے ہو
عمر کچی ہو جسم بوڑھا ہو
اس جوانی کا دکھ سمجھتے ہو
مجھ کو حسرت سے دیکھنے والوں
بے زبانی کا دکھ سمجھتے ہو
خود کو کہتے ہو پیکر موسیٰ
لن ترانی کا دکھ سمجھتے ہو
اک الم سا سمیٹے ہے خود میں
رنگ دھانی کا دکھ سمجھتے ہو
دل سے زویا کے جا رہے ہو سنو
لامکانی کا دکھ سمجھتے ہو
زویا شیخ
No comments:
Post a Comment