Thursday, 10 June 2021

اداسی ختم ہو جائے اگر تم ملنے آ جاؤ

 اداسی ختم ہو جائے اگر تم ملنے آ جاؤ

میرا ہر زخم سو جائے اگر تم ملنے آ جاؤ

شب ہجراں کے ماتھے پر سویرے پھر سے روشن ہوں

یہ رُت گجرے پرو جائے اگر تم ملنے آ جاؤ

تمہارے قرب کے لمحے میسر ہم کو آ جائیں

یہ دل رنگوں میں کھو جائے اگر تم ملنے آ جاؤ

ستارہ بخت کا اپنا بلندی پر نظر آئے

زمیں آکاش ہو جائے اگر تم ملنے آ جاؤ

ہواؤں میں بسی پھولوں کی دل آویز یہ خوشبو

مِرے دل میں سمو جائے اگر تم ملنے آ جاؤ

کڑکتی دھوپ ہے سر پر بھلا انکار یہ کب ہے

مجھے ساون بھگو جائے اگر تم ملنے آ جاؤ


ثمینہ سید

No comments:

Post a Comment