اداسی ختم ہو جائے اگر تم ملنے آ جاؤ
میرا ہر زخم سو جائے اگر تم ملنے آ جاؤ
شب ہجراں کے ماتھے پر سویرے پھر سے روشن ہوں
یہ رُت گجرے پرو جائے اگر تم ملنے آ جاؤ
تمہارے قرب کے لمحے میسر ہم کو آ جائیں
یہ دل رنگوں میں کھو جائے اگر تم ملنے آ جاؤ
ستارہ بخت کا اپنا بلندی پر نظر آئے
زمیں آکاش ہو جائے اگر تم ملنے آ جاؤ
ہواؤں میں بسی پھولوں کی دل آویز یہ خوشبو
مِرے دل میں سمو جائے اگر تم ملنے آ جاؤ
کڑکتی دھوپ ہے سر پر بھلا انکار یہ کب ہے
مجھے ساون بھگو جائے اگر تم ملنے آ جاؤ
ثمینہ سید
No comments:
Post a Comment