گریبان اپنا رفو ہو گیا تو؟
وہ اک دوست بھی گر عدو ہو گیا تو
مِرا نام بھی مجھ سے چھِن جائے گا پھر
جو چرچا مِرا کو بہ کو ہو گیا تو
بچیں گے بھلا کیا محبت کے دریا
غموں کا سمندر، سبو ہو گیا تو؟
مری آنکھ میں کون دیکھے گا چہرہ
وہ سنگ زاد، آئینہ رو ہو گیا تو؟
تو پھر اسکی یادیں امر کیسے ہونگی
جو تنہائیوں کا لہو ہو گیا تو؟
میں اس چیز کو نام کیا دوں گا جاناں
تِرا جسم بھی آرزو ہو گیا تو؟
تنویر مونس
No comments:
Post a Comment