وحشتِ ہجر کا آزار لیے پھرتے ہیں
ہم طبیعت پہ عجب بار لیے پھرتے ہیں
دل کا دروازہ محبت سے کھلا کرتا ہے
لوگ کیوں جبر کی تلوار لیے پھرتے ہیں
لوگ تو درہم و دینار پہ نازاں ہیں بہت
ہم فقط دولتِ پندار لیے پھرتے ہیں
آپکو دھوپ کی شدت سے بچانے کےلیے
ہم بھی اک سایۂ دیوار لیے پھرتے ہیں
وہ بھی ہیں خود کو چھپائے ہوئے سو پردوں میں
ہم بھی اک حسرتِ دیدار لیے پھرتے ہیں
ہے چبھن آپ کی آنکھوں سے ہویدا مضطر
آپ بھی دل میں کوئی خار لیے پھرتے ہیں
فیصل مضطر
No comments:
Post a Comment