Sunday, 12 December 2021

دعا بھول جاتی اثر بھول جاتی

 دعا بھول جاتی اثر بھول جاتی

میں دنیا تجھے چھوڑ کر بھول جاتی

تجھے بھول جانے کی کوشش میں شاید

میں اپنی گلی اپنا گھر بھول جاتی

اگر ڈوب جاتی میں آنکھوں میں تیری

تو پھر ساری دنیا کا ڈر بھول جاتی

اُدھر آپ اپنی ادا بھول جاتے

اِدھر میں بھی اپنا ہنر بھول جاتی

جو منسوب ہوتی تِرے بازوؤں سے

میں اُس ایک شب کی سحر بھول جاتی

اُسے بھول جانا قیامت ہے عرشی

مقدر کا لکھا مگر بھول جاتی


عروسہ عرشی

No comments:

Post a Comment