ستم کے ساتھ رہنا ہے، سزا کے ساتھ رہنا ہے
وفا بن کر مجھے اس بے وفا کے ساتھ رہنا ہے
تبسم ریز رہنا ہے لبوں کو سی کے رکھنا ہے
جلانے ہیں دِیے اور پھر ہوا کے ساتھ رہنا ہے
تِری بے باک نظروں نے مجھے یہ حوصلہ بخشا
مجھے اشکوں میں ڈھل کر بھی ادا کے ساتھ رہنا ہے
ابھی اُمید ہے دل کو وہ شاید لوٹ ہی آئے 💖
ابھی کچھ روز سجدے میں دُعا کے ساتھ رہنا ہے
مِری آنکھوں کے سب سپنے اگرچہ ٹُوٹ بھی جائیں
مجھے تلقین ہے اس کی سزا کے ساتھ رہنا ہے
شاہین زیدی
No comments:
Post a Comment