Saturday, 11 December 2021

ہو گیا ابرو کی سفاکی سے شہرا یار کا

 ہو گیا ابرو کی سفاکی سے شُہرہ یار کا

کام کر جائے سپاہی نام ہو سردار کا

کوچۂ شہرگ سے کیا تیرا محل نزدیک ہے

دم گلے میں آ کے اٹکا ہے تِرے بیمار کا

مثل عیسیٰ ان کی خدمت میں رسائی ہو گئی

پڑھ گئے کوٹھے پہ ہم، زینہ لگا کردار کا

رات کو آنکھوں کے نیچے پھر گئی تصویرِ یار

واہ، کیا چمکا ستارہ دیدۂ بے دار کا

قدر کیا اصلاح غالب سے مِری شہرت ہوئی

وہ مثل ہے؛ باڑھ کاٹے نام ہو تلوار کا


قدر بلگرامی

No comments:

Post a Comment