Saturday, 11 December 2021

کچھ امیر خوابوں سے غریب باتیں

 باتیں


کچھ امیر خوابوں سے

غریب باتیں کرتی ہوں

بڑی عجیب باتیں کرتی ہوں

اندھیرے سے روشنی کی باتیں

خالی گھر زندگی کی باتیں

کانٹوں سے پھول کی بات

خوشبو سے دھول کی بات

باتیں چاروں اور رہتی ہیں

باتیں موسموں کی ساتھی ہیں

میری باتوں کی یہ مشکل ہے

ہزار باتیں اور اک دل ہے

اِن باتوں کو سمجھ جاؤ جو

سمجھنا بھی ایک حماقت ہے

حماقت کر ہی بیٹھے اگر تم

مان لوں گی

تمہیں محبت ہے


حمیرا فضا

No comments:

Post a Comment