Friday, 18 February 2022

دل میں رستہ روز نہیں بنتا

 دل میں رستہ روز نہیں بنتا

ایسا مصرعہ روز نہیں بنتا

بننے والے ٹوٹتے رہتے ہیں

ٹوٹنے والا روز نہیں بنتا

خواہش ہاتھ بٹاتی ہے ورنہ

آنکھ سے چہرہ روز نہیں بنتا

ابراہیمی کھیل نہیں پیارے

آگ میں سونا روز نہیں بنتا

باہر کھڑکی روز نہیں کھلتی

اندر جھونکا روز نہیں بنتا

شرق و غرب ملانا پڑتے ہیں

یوں ہی بوسہ روز نہیں بنتا

ایسا ویسے روز بناتا ہوں

ویسے ایسا روز نہیں بنتا

نیند کا بستر مل بھی جائے تو

بازو تکیہ روز نہیں بنتا

ایک نشانہ باندھنے والے کا

کون نشانہ روز نہیں بنتا

سیر کو ملکہ روز نہیں آتی

باغ میں قصہ روز نہیں بنتا

موت سے جا کر کہہ دو اب ہم سے

ایک بہانہ روز نہیں بنتا


سرفراز زاہد

No comments:

Post a Comment