دل میں رستہ روز نہیں بنتا
ایسا مصرعہ روز نہیں بنتا
بننے والے ٹوٹتے رہتے ہیں
ٹوٹنے والا روز نہیں بنتا
خواہش ہاتھ بٹاتی ہے ورنہ
آنکھ سے چہرہ روز نہیں بنتا
ابراہیمی کھیل نہیں پیارے
آگ میں سونا روز نہیں بنتا
باہر کھڑکی روز نہیں کھلتی
اندر جھونکا روز نہیں بنتا
شرق و غرب ملانا پڑتے ہیں
یوں ہی بوسہ روز نہیں بنتا
ایسا ویسے روز بناتا ہوں
ویسے ایسا روز نہیں بنتا
نیند کا بستر مل بھی جائے تو
بازو تکیہ روز نہیں بنتا
ایک نشانہ باندھنے والے کا
کون نشانہ روز نہیں بنتا
سیر کو ملکہ روز نہیں آتی
باغ میں قصہ روز نہیں بنتا
موت سے جا کر کہہ دو اب ہم سے
ایک بہانہ روز نہیں بنتا
سرفراز زاہد
No comments:
Post a Comment