مجھے اپنی خبر دینے سے پہلے
نظر آیا نظر دینے سے پہلے
بچھائے ہیں مِری راہوں میں کانٹے
مجھے حکمِ سفر دینے سے پہلے
لگائی ہے اڑانوں پر بھی قدغن
مِری سوچوں کو پر دینے سے پہلے
دعا کرنے کی حاجت بھی تو دی ہے
دعاؤں میں اثر دینے سے پہلے
کروں کیسے میں دل دینے کا دعویٰ
کوئی لے لے اگر دینے سے پہلے
مِری آوارگی چھینی ہے شاہد
مجھے گھیرا ہے گھر دینے سے پہلے
شاہد جان
No comments:
Post a Comment