تیری خفگی پہ صنم آج ہےحیران کسک
مڑ کے نظریں تو ملا تجھ پہ ہو قربان کسک
جب سے تُو نے مجھے چھوڑا ہے رقیبوں کے لیے
آنکھ پُر نم ہے، دلِ سوختہ یک جان کسک
ہم نہ مائل تھے کبھی تم سے جدا ہونے پر
تم نے کیوں چھوڑ دیا، دل میں یہ ہر آن کسک
جب سے ہم دور چلے آئے تِرے آنگن سے
زندگی جبرِ مسلسل ہوئی پہچان کسک
مجھ کو محبوب رہی اس کی توجہ ہر پل
یونہی کرتی رہی پھر جان کو ہلکان کسک
وہ نہیں جان سکی دنیا کی طوطا چشمی
نین کے تیر چلاتی رہی نادان کسک
تیرے سینے میں فقط آگ لگائے جاؤں
اب نہ چھوڑوں گی تمہیں، کر گئی اعلان کسک
ہائے عامر رہے خوابوں کے مسافر کچھ لوگ
اور ہمراہ رہی دائمی، انجان کسک
عامر حسنی
No comments:
Post a Comment