اشک سے آنکھ، تو دل درد سے آباد کیا
میں نے اس طرح تجھے ہجر کی شب یاد کیا
نوچ کر پر مِرے صیاد نے ارشاد کیا
جا، تجھے کشمکشِ دہر سے آزاد کیا
تجھ کو سُولی پہ چڑھا دیں گے یہ دنیا والے
گر ستم تُو نے نیا روز یوں ایجاد کیا
اس نے ہنس ہنس کے بھُلایا ہے میری یادوں کو
میں نے رو رو کے جسے شام و سحر یاد کیا
ہچکیوں کا یہ تسلسل جو رُکے تو پوچھوں
اتنی شدت سے اسد! کس نے تجھے یاد کیا
اسد ہاشمی
No comments:
Post a Comment