پھر تِری یادوں کی پھنکاروں کے بیچ
نِیم جاں ہے رات یلغاروں کے بیچ
🌕اونگھتا رہتا ہے اکثر ماہتاب
رات بھر ہم چند بے داروں کے بیچ
گونجتی رہتی ہے مجھ میں دم بہ دم
چیخ جو ابھری نہ کہساروں کے بیچ
دیکھتا آخر میں اس کو کس طرح
روشنی کی تیز بوچھاروں کے بیچ
کھو ہی جاتا ہوں تِرے قصے میں میں
بار ہا گمنام کرداروں کے بیچ
🌞ایک ادنیٰ سا دِیا ہے آفتاب
میرے من کے گہرے اندھیاروں کے بیچ
قید سے اپنی نکلتے کیوں نہیں
زخم کب بھرتے ہیں دیواروں کے بیچ
سانحے چھپنے لگے ہیں آنکھوں میں
نبض تھم جائے نہ اخباروں کے بیچ
آلوک مشرا
No comments:
Post a Comment