Friday, 4 February 2022

قربتیں جھوٹ کی روح کے فاصلے

 قربتیں جھوٹ کی روح کے فاصلے

زندگی بھر رہے ہجر کے سلسلے

آنکھ پتھرا گئی اشک شرما گئے

خواب یوں ٹوٹ کر خاک میں جا ملے

زندگی لکھ رہی درد کی داستاں

تھک نہ جائے قلم درد اتنے ملے

یہ زمیں آسماں رک نہ جائیں کہیں

سکھ نگر ڈھونڈنے ہم سفر کو چلے

سوز ہے ساز میں، تشنگی آب میں

صرف تنہائیاں، کرب ہے، فاصلے

گردشوں میں گھرا ایک تارا یہاں

ہے اماں ڈھونڈھتا کے کوئی جا ملے

اک پہر چاہ کا ہم رہے کھوجتے

شام ڈھلنے لگی، روگ بڑھنے لگے


حمیرا قریشی

No comments:

Post a Comment