قربتیں جھوٹ کی روح کے فاصلے
زندگی بھر رہے ہجر کے سلسلے
آنکھ پتھرا گئی اشک شرما گئے
خواب یوں ٹوٹ کر خاک میں جا ملے
زندگی لکھ رہی درد کی داستاں
تھک نہ جائے قلم درد اتنے ملے
یہ زمیں آسماں رک نہ جائیں کہیں
سکھ نگر ڈھونڈنے ہم سفر کو چلے
سوز ہے ساز میں، تشنگی آب میں
صرف تنہائیاں، کرب ہے، فاصلے
گردشوں میں گھرا ایک تارا یہاں
ہے اماں ڈھونڈھتا کے کوئی جا ملے
اک پہر چاہ کا ہم رہے کھوجتے
شام ڈھلنے لگی، روگ بڑھنے لگے
حمیرا قریشی
No comments:
Post a Comment