وہ کائنات کی تجہیز تک نہیں پہنچا
جو تیرے حسن کی دہلیز تک نہیں پہنچا
کچھ اس لیے بھی تحیر سے کام لیتا ہوں
کسی کا لمس جو ناچیز تک نہیں پہنچا
سنا ہے وقت بہت تیز بھاگتا ہے مگر
تمہارے پاؤں کی مہمیز تک نہیں پہنچا
میں آپ اپنی رسائی میں خود ہی حائل ہوں
تبھی ملال بھی تعویذ تک نہیں پہنچا
ہمارا مسئلہ سنگین تھا بہت حارث
مگر لڑائی کی دہلیز تک نہیں پہنچا
حارث دھنیال
No comments:
Post a Comment