Friday, 4 February 2022

وہ کائنات کی تجہیز تک نہیں پہنچا

 وہ کائنات کی تجہیز تک نہیں پہنچا

جو تیرے حسن کی دہلیز تک نہیں پہنچا

کچھ اس لیے بھی تحیر سے کام لیتا ہوں

کسی کا لمس جو ناچیز تک نہیں پہنچا

سنا ہے وقت بہت تیز بھاگتا ہے مگر

تمہارے پاؤں کی مہمیز تک نہیں پہنچا

میں آپ اپنی رسائی میں خود ہی حائل ہوں

تبھی ملال بھی تعویذ تک نہیں پہنچا

ہمارا مسئلہ سنگین تھا بہت حارث 

مگر لڑائی کی دہلیز تک نہیں پہنچا


حارث دھنیال

No comments:

Post a Comment