Friday, 11 February 2022

زرد موسم میں نئے پھول کھلانے والے

 زرد موسم میں نئے پھول کھلانے والے

مندمل کر نہ سکے زخم پرانے والے

کون سودائے دعا کرتا ہے زخموں کے عوض

ہم کہاں اور کہاں لوگ زمانے والے

فرصت خواب کہاں ایسے ہوئے ہیں بیدار

تیرے جھونکے بھی نہیں نیند میں لانے والے

چاشنی جا نہیں سکتی کبھی لفظوں سے تری

چاہے مضمون در آئیں کئی آنے والے

دیکھنا طرۂ شہ سا وہ مآل و ہنگام

سر بھی دھر جائیں گے دستار بچانے والے

فکر داماں کی نہیں کرتے نکل آتے ہیں

اک ہی سلوٹ پہ کئی حرف اٹھانے والے

آج گرچہ نہیں اک روز کریں گے چرچا

میرے احباب نہیں مجھ کو بھلانے والے


حمزہ ہاشمی سوز

No comments:

Post a Comment