زرد موسم میں نئے پھول کھلانے والے
مندمل کر نہ سکے زخم پرانے والے
کون سودائے دعا کرتا ہے زخموں کے عوض
ہم کہاں اور کہاں لوگ زمانے والے
فرصت خواب کہاں ایسے ہوئے ہیں بیدار
تیرے جھونکے بھی نہیں نیند میں لانے والے
چاشنی جا نہیں سکتی کبھی لفظوں سے تری
چاہے مضمون در آئیں کئی آنے والے
دیکھنا طرۂ شہ سا وہ مآل و ہنگام
سر بھی دھر جائیں گے دستار بچانے والے
فکر داماں کی نہیں کرتے نکل آتے ہیں
اک ہی سلوٹ پہ کئی حرف اٹھانے والے
آج گرچہ نہیں اک روز کریں گے چرچا
میرے احباب نہیں مجھ کو بھلانے والے
حمزہ ہاشمی سوز
No comments:
Post a Comment