نفاق اپنی جگہ،۔ اختلاف اپنی جگہ
حریفِ جاں کو کیا ہے معاف اپنی جگہ
ہر ایک فرد مِرا قدردان ہے پھر بھی
ہر ایک فرد ہے میرے خلاف اپنی جگہ
کئی دنوں سے کوئی رابطہ نہیں تم سے
تمہارے شہر کا لیکن طواف اپنی جگہ
کبھی تو دوست رہے ہیں دیارِ حسرت میں
اب اجنبی ہے مگر اعتراف اپنی جگہ
عداوتوں میں تِرے بھید تو رہے پنہاں
محبتوں میں تِرے انکشاف اپنی جگہ
اسے بھی ملنا ہے میں نے کہیں اکیلے میں
یہ روزہ اپنی جگہ،۔ اعتکاف اپنی جگہ
مِرے مقام کے احباب معترف ہیں مگر
مِرے کلام سے ہے انحراف اپنی جگہ
تِری طرف سے تو نقصان بھی ہوا ہے اسد
مگر یہ دل ہے تِرے حق میں صاف اپنی جگہ
اسد اعوان
No comments:
Post a Comment