Thursday, 17 February 2022

آپ بے کار الجھ بیٹھے ہیں تقدیر کے ساتھ

 آپ بے کار الجھ بیٹھے ہیں تقدیر کے ساتھ

پہلے پڑھیے تو ذرا صبر کو تفسیر کے ساتھ

مصلحت ہے کہ محبت ہے غضب ہے جو ہے

دیکھ دیوار اتر آئی ہے تصویر کے ساتھ

مُفلسی آ گئی اس بار بھی آڑے، ورنہ

لازماً پھول بھی ملتے تجھے تحریر کے ساتھ

کیا ہی اچھا تھا شہہِ وقت کہ ایسا ہوتا

دکھ فلسطیں کا بھی ہوتا تجھے کشمیر کے ساتھ

سُوجھتا ہے کبھی فیصل جو کنارہ کرنا

لاکھ خدشات جنم لیتے ہیں تدبیر کے ساتھ


فیصل ندیم

No comments:

Post a Comment