Tuesday, 15 February 2022

اے مالک مختار ہر اک کام سے پہلے

عارفانہ کلام حمدیہ کلام


اے مالکِ مختار ہر اک کام سے پہلے

لیتی ہوں تِرا نام ہر اک نام سے پہلے

دنیا کی نظر سے کسی انجام سے پہلے

چل دور نکل جائیں کہیں شام سے پہلے

ہم نے تو چھپا رکھے تھے گہرائی میں آنسو

آنکھوں میں اتر آئے تِرے نام سے پہلے

سندیش ہی آیا نہ ہی آئی کوئی چِٹھی

وہ خود ہی چلا آیا ہے پیغام سے پہلے

کچھ صبر کرو شور بھی گونجیں بھی سنو گے

خاموشی ہے چھائی ہوئی کہرام سے پہلے

پھر لوٹ کے چوکھٹ پہ نہیں آؤں گا تیری

وہ روز قسم لیتا رہا شام سے پہلے

منصف ہو تمہی حق ہے تمہیں رائے زنی کا

کیوں فیصلہ کرتے نہیں الزام سے پہلے

یادوں کے محلات ضیا بار رہیں بس

دل اپنا جلاتی میں رہی شام سے پہلے

الماس مِرے رب کا کرم خاص ہے مجھ پر

شہرت جو ملی مجھ کو مِرے کام سے پہلے


الماس کبیر جاوید

No comments:

Post a Comment