Tuesday, 9 August 2022

آتی ہے کربلا میں سواری حسین کی

 عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام حسین


آتا ہے کون شمعِ امامت لیے ہوئے

اپنے جلوے میں فوج ہدایت لیے ہوئے

ہاتھوں میں جامِ سرخ شہادت لیے ہوئے

لب پہ دعائے بخششِ امت لیے ہوئے

پھیلی بو فضا میں شہہ مشرقین کی

آتی ہے کربلا میں سواری حسینؑ کی

زہرا بھی ساتھ ہیں حسنؑ مجتبیٰ بھی ساتھ

جعفرؑ بھی ساتھ ہیں مشکل کشا بھی ساتھ

حمزہ بھی ساتھ ہیں جناب رسولؐ خدا بھی ساتھ

تنہا نہیں حسینؑ کہ ہیں انبیاء بھی ساتھ

شور درود اٹھتا ہے سارے جہان سے

برسا رہا ہے پھول ملک آسمان سے

گھوڑے پہ آگے آگے ہیں خود شیر کربلا

ہیں گرد سب عزیز و رفیقان با وفا

ابرار و پاک ہیں و حق آگاہ و پارسا

پھیلی ہوئی ہے چہروں کے چاروں طرف ضیاء

پورے بہار پر ہے گلستاں بتولؑ کا

چھوٹا سا قافلہ ہے یہ آل رسولؐ کا

بر میں قبائیں سر پہ عمامے بندھے ہوئے

تیغیں کمر میں پہلو میں خنجر لگے ہوئے

دانتوں میں ہونٹ رانوں گھوڑے جمے ہوئے

بازو بھرے بھرے ہوئے سینے تنے ہوئے

کمسن ہیں کچھ ضعیف ہیں کچھ نوجوان ہیں

پیشانیوں پہ سجدۂ حق کے نشان ہیں

ہمت پہ ولولوں پہ شجاعت کو ناز ہے

طاعت گزاریوں پہ عبادت کو ناز ہے

صورت پہ د ست ضانع قدرت کو ناز ہے

بازو میں زور وہ ہے کہ قوت کو ناز ہے

نقشے ہیں اک مصور زریں نگار کے

بکھرے ورق ہیں مصحف پروردگار کے


علی سردار جعفری

No comments:

Post a Comment