عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام حسینؑ
زندگانی مِرے حسینؑ کی ہے
جاوِدانی، مرے حسین کی ہے
طٰہٰ، یاسین ہو کہ دہر، کساء
ہر کہانی مرے حسین کی ہے
جس کی دولت پہ دین پلتا رہا
ایسی نانی مرے حسین کی ہے
لوگ جنت سمجھ رہے ہیں جسے
راجدھانی مرے حسین کی ہے
کربلا بھُولتی نہیں ہے ہمیں
یہ کہانی مرے حسین کی ہے
موت سے تُو ڈرا رہا ہے کسے
زندگانی مرے حسین کی ہے
یہ جہاں ہو کہ وہ جہان، سدا
حُکمرانی مرے حسین کی ہے
کربلا نے بسا دیا ہے جہاں
مہربانی مرے حسین کی ہے
تُو شہادت کا جام پی لے بتول
یہ نشانی مرے حسین کی ہے
فاخرہ بتول
No comments:
Post a Comment