Friday, 5 August 2022

تیری گرفت میں آئے نہ خود کے بس میں رہے

 تیری گرفت میں آئے نہ خود کے بس میں رہے 

ہم ابر بن کے ہواؤں کی دسترس میں رہے 

وہ کون لوگ تھے صحرا میں جن کو پھول ملے 

چمن میں رہ کے بھی ہم لوگ خار و خس میں رہے 

ہماری سادہ مزاجی ہی ہم کو لے ڈوبی 

ہم آسمان تھے لیکن زمیں کے بس میں رہے 

وہ قافلے جو کہیں دشت شب میں دفن ہوئے 

سحر ہوئی بھی تو آوازۂ جرس میں رہے 

بُجھے تو کیسے بجھے پیاس جسم و جاں کی نوید

کہ چند گُھونٹ ہی پیمانۂ ہوس میں رہے 


علی الدین نوید

No comments:

Post a Comment