Friday, 5 August 2022

میں بھی آگے بڑھوں اور بھیڑ کا حصہ ہو جاؤں

 میں بھی آگے بڑھوں اور بھیڑ کا حصہ ہو جاؤں

اس سے اچھا تو یہی ہے کہ میں تنہا ہو جاؤں

پیاس کو میری جو اک جام نہ دے پایا کبھی

تشنگی اس کی یہ کہتی ہے؛ میں دریا ہو جاؤں

مجھ کو جکڑے ہوئے رشتوں کی حقیقت مت پوچھ

بس چلے میرا اگر تو میں اکیلا ہو جاؤں

لے کے جاؤں کہاں احساسِ وفاداری کو

دل تو کہتا ہے کہ میں بھی تِرے جیسا ہو جاؤں

ہو کسی طور تو دنیا کی توجہ مجھ پر

ایک دو پل کے لیے میں بھی تماشا ہو جاؤں

دل کی مجبوری عجب چیز ہے ورنہ جاوید

کون چاہے گا بھلا خود کہ میں رُسوا ہو جاؤں


جاوید نسیمی

No comments:

Post a Comment