اسے یہ کہنا بڑا کٹھن ہے
تمہاری آنکھوں کی تاب لانا
تمہیں بتانا کہ تم حسیں ہو
تمہیں یہ کہنا کہ ساحرہ ہو
تم ایک شاعر کی شاعرہ ہو
اسے یہ کہنا بڑا کٹھن ہے
یہ کہکشائیں یہ سب ستارے
تمہاری آہٹ کے منتظر ہیں
تمہارے آنے سے سارا کیمپس
حسین پھولوں سے گھِر گیا ہے
تمہیں خبر ہو تمہارے آنے سے
میری دھڑکن میں
اضطرابی سی بھر گئی ہے
اسے یہ کہنا
اے عشق زادی
حسین پھولوں کی شہزادی
تمہارا اپنا اداس شاعر
تمہاری چاہت کا منتظر ہے
یہ دو مہینوں کا ہجر مجھ پر
کسی قیامت سے کم نہیں ہے
سو مان جاؤ
تمہاری قربت
مِری کہانی کی اک مکمل سے داستاں ہے
بڑا کٹھن ہے یہ تم سے کہنا
کہ ساتھ رہنا بڑا کٹھن ہے
بڑا کٹھن ہے تم سے کہنا
کہ ساتھ رہنا
علی اسد
No comments:
Post a Comment