Friday, 16 September 2022

تمہاری قربت مری کہانی کی اک مکمل سے داستاں ہے

 اسے یہ کہنا بڑا کٹھن ہے

تمہاری آنکھوں کی تاب لانا

تمہیں بتانا کہ تم حسیں ہو

تمہیں یہ کہنا کہ ساحرہ ہو

تم ایک شاعر کی شاعرہ ہو

اسے یہ کہنا بڑا کٹھن ہے

یہ کہکشائیں یہ سب ستارے

تمہاری آہٹ کے منتظر ہیں

تمہارے آنے سے سارا کیمپس

حسین پھولوں سے گھِر گیا ہے

تمہیں خبر ہو تمہارے آنے سے

میری دھڑکن میں 

اضطرابی سی بھر گئی ہے

اسے یہ کہنا

اے عشق زادی

حسین پھولوں کی شہزادی

تمہارا اپنا اداس شاعر

تمہاری چاہت کا منتظر ہے

یہ دو مہینوں کا ہجر مجھ پر

کسی قیامت سے کم نہیں ہے

سو مان جاؤ

تمہاری قربت 

مِری کہانی کی اک مکمل سے داستاں ہے

بڑا کٹھن ہے یہ تم سے کہنا

کہ ساتھ رہنا بڑا کٹھن ہے

بڑا کٹھن ہے تم سے کہنا

کہ ساتھ رہنا


علی اسد

No comments:

Post a Comment