Wednesday, 14 September 2022

جب سرنگوں ہوا علم کہکشان شب

 جب سرنگوں ہوا علم کہکشان شب

خورشید کے نشاں نے مٹایا نشان شب

تیر شہاب سے ہوئی خالی کمان شب

تانی نہ پھر شعاع قمر نے سنان شب

آئی لو صبح زیور جنگی سنوار کے

شب نے زرہ ستاروں کی رکھ دی اتار کے

شمشیر مشرقی جو چڑھی چرخ پر شتاب

پھر تیغ مغربی نے دکھائی نہ آب و تاب

تھا بس کہ گرم خنجر بیضائے آفتاب

باقی رہا نہ چشمۂ نیلوفری میں آب

محتاج ماہتاب ہوا آب و تاب کا

باغ جہاں میں پھول کھلا آفتاب کا

تھی جوش خوں کے عارضہ میں مبتلا شفق

فصاد صبح آیا لیے نشتر و طبق

کھولی شفق کی فصد تو رنگ افق تھا فق

گلرنگ تھا صحیفۂ گردوں ورق ورق

خون شفق میں سرخ قضا نے قلم کیا

اور خط و خال روز شہادت رقم کیا


مرزا دبیر

سلامت علی دبیر

No comments:

Post a Comment