جب سرنگوں ہوا علم کہکشان شب
خورشید کے نشاں نے مٹایا نشان شب
تیر شہاب سے ہوئی خالی کمان شب
تانی نہ پھر شعاع قمر نے سنان شب
آئی لو صبح زیور جنگی سنوار کے
شب نے زرہ ستاروں کی رکھ دی اتار کے
شمشیر مشرقی جو چڑھی چرخ پر شتاب
پھر تیغ مغربی نے دکھائی نہ آب و تاب
تھا بس کہ گرم خنجر بیضائے آفتاب
باقی رہا نہ چشمۂ نیلوفری میں آب
محتاج ماہتاب ہوا آب و تاب کا
باغ جہاں میں پھول کھلا آفتاب کا
تھی جوش خوں کے عارضہ میں مبتلا شفق
فصاد صبح آیا لیے نشتر و طبق
کھولی شفق کی فصد تو رنگ افق تھا فق
گلرنگ تھا صحیفۂ گردوں ورق ورق
خون شفق میں سرخ قضا نے قلم کیا
اور خط و خال روز شہادت رقم کیا
مرزا دبیر
سلامت علی دبیر
No comments:
Post a Comment