Wednesday, 14 September 2022

ہم تو وہ ہیں کہ محبت کو خدا دیتے ہیں

 ہم تو وہ ہیں کہ محبت کو خدا دیتے ہیں

سنگریزوں کو دھڑکنا بھی سِکھا دیتے ہیں

آؤ، انسان کو انسان سمجھ کر دیکھیں

آؤ، تفریق کو دنیا سے مِٹا دیتے ہیں

تم تو یادوں کی ابھی لاش لیے بیٹھے ہو

روح مر جائے تو ہم جسم جلا دیتے ہیں

جھوٹ کے ساتھ ہی جیتے ہیں‌ سبھی دنیا میں

لوگ سُقراط کو تو زہر پِلا دیتے ہیں

اپنے اوہام کے سب دِیپ جلانے کے لیے

لوگ بے درد ہیں سورج کو بُجھا دیتے ہیں

آج تخلیق کا اِک باب نیا روشن ہو

آج احساس کی شمعوں کو جلا دیتے ہیں

جن کو تم خاک بسر، سوختہ ساماں سمجھے

راستہ بھی تو وہی لوگ دِکھا دیتے ہیں

روشنی کے لیے ہم بھیک نہیں مانگیں گے

تیرگی میں تو یہی داغ ضیا دیتے ہیں


رضوانہ تبسم درانی

No comments:

Post a Comment