Wednesday, 14 September 2022

بچشم ہوش و عبرت رنگ دنیا دیکھتے جاؤ

 بچشمِ ہوش و عِبرت رنگِ دنیا دیکھتے جاؤ

مسافر باغ و صحرا، زشت و زیبا، دیکھتے جاؤ

ہر اک شے دیکھنے کی ہے تماشا گاہِ عالم میں

سکونِ ساحل و طوفانِ دریا دیکھتے جاؤ

نظر دوڑاؤ ہند و مصر و ایران و مراکش پر

حرم کی عاجزی، جورِ کلیسا، دیکھتے جاؤ

دلِ گلہائے نو رس چاک، بلبل کا جگر ٹکڑے

چمن والوں کو مجروحِ تمنا دیکھتے جاؤ

ضیائے شرق پر چھائی ہوئی مغرب کی تاریکی

متاعِ قیس پر شبخونِ لیلیٰ دیکھتے جاؤ


ذکاءاللہ بسمل

No comments:

Post a Comment